Marriage in Islam by Shahnawaz Forooqi

انسان تہذیب کے زوال کا ایک پہلو یہ ہے کہ شادی کا تصور اپنی اصل میں الہٰیاتی اور کائناتی سطح اور مفہوم کا حامل تھ

مولانا روم نے ایک جگہ فرمایا ہے ’’عقل کے نزدیک آسمان مرد اور زمین عورت ہے۔ آسمان سے جو کچھ آتا ہے زمین اس کی آبیاری کرتی ہے۔‘‘

اسلامی فکر کے دائرے میں مرد اور عورت کے تعلق کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ مرد اللہ تعالیٰ کی ذات اور عورت اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کی مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کے وجودمیں ذات اور صفات کے درمیان جدائی یا علیحدگی نہیں ہے۔ لیکن مرتبۂ ظہور میں ذات اور صفت مرد اور عورت کی صورت میں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے ہیں۔ چنانچہ اسلام میں شادی کے ادارے کی اہمیت اور معنویت یہ ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول اکرمؐ کی سنت کے مطابق ذات اور صفت کا اتصال اس طرح ممکن ہوجاتا ہے کہ وہ ایک اکائی یا وحدت بن جاتے ہیں۔ ان کی یہ وحدت الہٰیاتی اور کائناتی مفہوم کی حامل ہوتی ہے۔ مرد اور عورت کے اس تعلق کو ایک اور حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ حضرت آدمؑ جنت میں تھے اور تمام نعمتیں ان کو میّسر تھیں مگر اس کے باوجود وہ اداس رہتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی رفاقت اور تسکین کے لیے ان کی پسلی سے اماںّ حوّا کو پیدا کیا۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو عورت مرد کی ذات کا حصہ ہے اور ان کے درمیان وہی تعلق ہے جو کُل اور جز کے درمیان ہوتا ہے۔ مرد عورت کی محبت محسوس کرتا ہے تو یہ کُل سے جز کی محبت ہوتی ہے اور عورت مرد کی محبت محسوس کرتی ہے تو جز کی کُل سے محبت ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ شادی کُل کو جز سے ملانے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں مرد اور عورت کا تعلق حریفوں کا تعلق ہوہی نہیں سکتا۔ یہ حلیفوں کا تعلق ہے ایسے حلیفوں کا تعلق جو مرتبۂ ظہور میں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں اور شادی ان کے ہجر کو وصال میں بدل دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نکاح کا بامحاورہ ترجمہ کیا جائے تو وہ وصال اور وجود کے دو حصوں کے اتصال کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ ہماری زبان میں شادی کا مفہوم مسرت ہے اور یہ مسرت اس بات کی ہے کہ ذات اور صفت باہم مل رہے ہیں۔ کل اور جز کا ملن ہورہا ہے اور زندگی اس مفہوم اور اس حسن وجمال کی حامل ہورہی ہے جو خدا کو مطلوب ہے۔ یہ ایک افسوس ناک بات ہے کہ فی زمانہ مسلمان بھی اس بات پر غور نہیں کرتے کہ طلاق اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ ترین چیزوں میں سے ایک کیوں ہے؟ بدقسمتی سے ہم طلاق کو سماجی، معاشی یا زیادہ سے زیادہ نفسیاتی حوالوں سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ طلاق کی اصل ہولناکی یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ذات اور صفت میں جدائی ہورہی ہوتی ہے۔ کُل، جز سے بچھڑ رہا ہوتا ہے۔ آسمان زمین سے جدا ہورہا ہوتا ہے۔ دو کائناتیں ایک دوسرے سے الگ ہورہی ہوتی ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ طلاق وجود، زندگی اور کائنات کی ہم آہنگی میں انتشار کی آندھی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔

بلاشبہ شادی کے سلسلے میں مسلمانوں کا شعور باقی مذاہب کے ماننے والوں کی نسبت بہت بہتر ہے۔ لیکن مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ نکاح کرتے ہیں اور ان کے نکاح میں خطبہ نکاح بھی پڑھا جاتا ہے لیکن اکثر لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اس خطبہ نکاح میں کیا کہا گیا ہے اور اس کا مفہوم کیا ہے…؟ مختصر سے خطبہ نکاح میں اہل ایمان کو تین بار اللہ تعالیٰ سے ڈرایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اسے ایک نفس واحد سے وجود بخشا گیا اور نفس واحد سے اس کا جوڑا تخلیق کیا اور اس جوڑے سے تمام مرد اور عورت پیدا فرمائے۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے ایک جگہ اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کا ذکر کیا گیا ہے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کی نگہبانی کی نشاندہی کی گئی ہے اور تیسری جگہ اللہ کے ڈر کو ایمان کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے معانی یہ ہیں کہ شادی اور اس کا برقرار رہنا تخلیق کا تقاضا بھی ہے۔ اللہ کی نگہبانی کا تقاضا بھی ہے اور ایمان کا تقاضا بھی ہے۔ خطبہ نکاح کا ایک مفہوم یہ ہے کہ شادی کے ذریعے اصول کثرت کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔

قرآن مجید میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ لیکن مرد اور عورت شادی کے ذریعے ہی ایک دوسرے کا لباس بنتے ہیں۔ لباس کی مثال حسّی یعنی Sensuous اور جمالیاتی ہے۔ اس کے معانی یہ ہیں کہ قرآن شوہر اور بیوی کے تعلق کو صرف روحانی اور کائناتی معنی میں بیان نہیں کرتا بلکہ وہ انہیں حسّی اور جمالیاتی سطح پر بھی بیان کرتا ہے۔ تعلق کی حسّی سطح اصل میں جسمانی سطح ہے اور شادی کے ادارے کی اہمیت، معنویت قدروقیمت اور عظمت یہ ہے کہ وہ انسان کی ’’جسمانیت‘‘ کو بھی ’’روحانیت‘‘ بنا دیتا ہے۔ جدید اردو غزل میں اس پہلو کو سلیم احمد نے جس طرح سمجھا اور بیان کیاہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کے کچھ اشعار ملاخطہ کیجیے۔

بدن میں روح کا در پھوٹتا ہے
نہیں ہوتی محبت بالا بالا
یہ اکھوا تہہ کے اندر پھوٹتا ہے
٭…٭…٭
زمانہ، نوکری، گھر، فکردنیا
یہ رنگینی کا افسانہ نہیں ہے
تجھے چاہا ہے پورے جسم وجاں سے
محبت کا الگ خانہ نہیں ہے
عجب نسبت ہے باہم جان وتن کی
بجا ہے روح کا پھل ہے محبت
یہ پھل پکتا ہے گرمی سے بدن کی
٭…٭…٭
بدن کی آگ کو کہتے ہیں لوگ جھوٹی آگ
اس آگ نے مرے دل کو مگر گداز کیا
Marriage in Islam by Shahnawaz Forooqi
احادیث مبارکہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو شادی کے کچھ اور پہلو آشکار ہوکر سامنے آتے ہیں۔ رسول اکرمؐ کی ایک حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ مجھے دنیا میں تین چیزیں مرغوب ہیں۔ عورت، خوشبو اور نماز۔ علامہ کا شانی نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حدیث میں نماز کا ذکر سب سے آخر میں ہوا ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کا تعلق اور خوشبو نماز کو بہترین بنانے میں مددگار ہے۔ ایک حدیث شریف میں رسول اللہؐ نے فرمایا ہے کہ نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت پر عمل نہیں کرتا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ شادی کرنے والا نصف دین کو پالیتا ہے۔

ایک حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ اسلام کے دائرے میں تعمیر ہونے والی عمارتوں میں اللہ کو سب سے زیادہ محبت شادی کی عمارت سے ہے۔ ایک حدیث شریف میں آپؐ نے فرمایا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے اسلام کے بعد ایک ایسی مسلم بیوی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے کہ شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کردے۔ شوہر سے حکم دے تو وہ اطاعت کرے اور جب شوہر اس کے پاس نہ ہو تو وہ اپنی اور اپنے شوہر کی ملک کی حفاظت کرے۔

امام غزالیؒ نے شادی کے کئی بڑے فائدے بیان کیے ہیں۔ ان کے نزدیک شادی کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسانی نسل کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ شادی کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے دین کی حفاظت ہوتی ہے۔ جنسی جبلت کی تسکین جائز طریقے سے ہوجاتی ہے تو انسان حرام کھانے سے بچ جاتاہے۔ شادی کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ یہ جسمانی بھوک کو محدود کر دیتی ہے یا اسے حد میں رکھتی ہے۔ شادی کا چوتھا فائدہ یہ ہے کہ یہ زوجین کے لیے نفسیاتی جذباتی اور احساساتی تسکین کا ذریعہ ہے۔ شادی کا پانچواں فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے گھر کی دیکھ بھال کا اہتمام ہوجاتا ہے اور بچوں کی مناسب تعلیم وتربیت کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضور اکرمؐ جب وحی کے بار سے تھک جاتے تھے تو آپ ؐ حضرت عائشہؓ کا ہاتھ پکڑتے اور فرماتے ’’عائشہؓ مجھ سے بات کرو۔‘‘ اس عمل کے ذریعے آپؐ فرحت حاصل کرتے اور اپنی توانائی بحال فرماتے تھے۔

ہماری مذہبی روایت بتاتی ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ یہ بات درست ہے مگر یہ آدھی بات ہے ۔ پوری بات یہ ہے کہ آسمان پر صرف جوڑے نہیں بنتے بلکہ آسمان پر شادیوں کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور ان میں اہل آسمان شریک ہوتے ہیں۔ بعد میں شادیاں زمین پر منعقد ہوتی ہیں۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے چیزوں کے عدم سے وجود میں آنے کے عمل کو پہلی شادی کی مثال قرار دیتے ہوئے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اس عمل میں اسماء الحسنیٰ کی نوعیت شادی میں شریک مہمانوں کی سی ہے۔ جو اس بات پر مسرور ہوتے ہیں کہ اگر شادی کا عمل نہ ہوتا تو ان کے خصائص کبھی بھی کائنات میں ظاہر نہ ہوتے اور وہ ایک پوشیدہ خزانہ بن کر رہ جاتے۔See More

ا مگر ہماری دنیا میں اب شادی ایک سماجی ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ بلکہ مغربی دنیا میں تو شادی کی بے توقیری اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہاں شادی طلاق حاصل کرنے کا ایک بہانہ بن گئی ہے۔

Enhanced by Zemanta
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s